نئی دہلی،10؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے کچھ عرضی گزاروں کی طرف سے سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر متوازی مباحثے پرناراضگی کا اظہار کیا ہے جو کہ اسرائیل کے جاسوس سافٹ ویئر پیگاسس کی مبینہ جاسوسی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عدالت نے ان درخواست گزاروں سے کہا ہے کہ وہ نظم و ضبط کے ساتھ رہیں۔چیف جسٹس این وی رمناکی سربراہی میں بنچ نے کہاہے کہ سپریم کورٹ بحث کا مخالف نہیں ہے ، لیکن جب معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے تو اس پر یہاں بحث ہونی چاہیے۔مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ سے کہاہے کہ انہیں درخواستوں میں اٹھائے گئے مسائل کے بارے میں حکومت سے ہدایات لینے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔
اس پر جسٹس رمنا ، جسٹس ونیت سرن اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 16 اگست کی تاریخ مقررکی ہے۔سینئرایڈوکیٹ کپل سبل ، سینئر صحافیوں این رام اور ششی کمار کی جانب سے پیش ہوئے جنہوں نے اس معاملے میں درخواست دائر کی ،انھوں نے کہاہے کہ رام کو پیگاسس سے متعلق عدالتی کارروائی کے بارے میں آخری سماعت کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا تھا۔
بنچ نے کہا کہ ہم یہی کہہ رہے ہیں۔ ہم فریقین سے سوال کرتے ہیں۔ ہم دونوں فریقوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ اس معاملے پر یہاں بحث ہونی چاہیے ، اس پر سوشل میڈیا یا ویب سائٹ پر بحث نہیں ہونی چاہیے۔ فریقین کو نظام پر اعتماد ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ اسرائیل کی جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس کی مبینہ جاسوسی کی آزادانہ تحقیقات کی متعدد درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ ان میں سے ایک درخواست ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیانے دائرکی ہے۔